Sections
< All Topics
Print

CHRISTMAS, HOLI GHAIR MUSLIMOU KI EIDON AUR TAHEWAAROU MEIN MUSALMAANOU KI SHIRKAT AUR KIRDAAR?

کرسمس، ہولی، غیر مسلموں کی عیدوں اور تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت اور کردار؟؟  

تحرير:  فضیلة الشیخ ابوعمير  حفظہ اللہ

اردو ترجمہ: حافظ محسن انصاری 

 

25 دسمبر کو عیسائی کرسمس کے نام سے عید مناتے ہیں، جس کا مطلب ہے پیدائش مسیح یعنی  سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پیدا ہونے کا دن اور اس دن کو وہ بطور عید مناتے ہیں اور ان کے بارے میں اکثر عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ نعوذ باللہ اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک باطل عقیدہ تثلیث بھی ہے یعنی خدا تین ہیں جن میں سے ایک عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔ (نعوذ باللہ) 

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ یُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ. 

اور یہودیوں نے کہا عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح(عیسیٰ علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کا اپنے مونہوں کا کہنا ہے(اگر عقل سے کام لیتے تو کبھی ایسی بات نہ کرتے)، وہ ان لوگوں کی

بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔(سورة التَّوۡبَۃِ آيت 30) 

حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : 

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠

اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے نہ کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ عاجز ہوجانے کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کر، خوب بڑائی بیان کرنا۔ 

(سورة بَنِیۡۤ اسۡرَآءِیۡلَ آيت 111)

اسلامی اعتبار سے یہ عقیدہ انتہائی شرکیہ اور کفریہ ہے:


اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا (88) لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا (89) تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (90) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (91) وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا (92) (مريم) 

اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے،بلاشبہ یقیناً تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو،آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں،کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا،حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے !! 

اسی طرح:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4) (اخلاص) 

کہہ دے وہ اللہ ایک ہے،اللہ ہی بے نیاز ہے،نہ اس نے کسی کو جنا(سیدنا عیسی علیہ السلام اور سیدنا عذیر علیہ السلام ہر گز بھی اللہ کے بیٹے نہیں) اور نہ وہ جنا گیا،اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔

حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: انسان میرے لیے اولاد ثابت کرکے مجھے گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں بے پرواہ ہوں، میری کوئی اولاد نہیں میں اکیلا ہوں، اور اسے کوئی حق نہیں کہ مجھے گالیاں دے” (صحیح بخاری: 4975)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غير المغضوب عليهم ولا الضالين کی تفسیر میں فرمایا کہ: مغضوب سے مراد قوم یہود ہے اور گمراہ نصرانی یعنی عیسائی ہیں۔ (ترمذي:2953) 

اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے طور طریقے ان سے بالکل جدا اور مختلف ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ . [سورة الجاثية 18]

پھر(اے پیغمبر) ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔

اسی طرح ان جان، لا علم کافروں،یہودیوں اور عیسائیوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:

وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ . [سورة البقرة 120]

اور (اے پیغمبر)تجھ سے یہودی ہرگز راضی نہ ہوں گے اور نہ نصاریٰ(عیسائی)، یہاں تک کہ تو ان کی ملت کی پیروی کرے۔ کہہ دے بے شک اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو تیرے لیے اللہ سے (چھڑانے میں) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔

 

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا مسلمانوں کے لیے اس وقت تک مطمئن اور خوش رہنا ممکن نہیں جب تک کہ مسلمان ان کے مذہبی طور طریقوں اور رسم و رواج کی پیروی نہ کریں، درحقیقت ان کی مذہبی رسومات، عید وغیرہ کی رسموں پر عمل کرنا ان کی خواہشات کی تکمیل اور ان سے محبت کا ذریعہ ہے، جس سے مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ .(المائدة – 51)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور تم میں سے جو انھیں دوست بنائے گا تو یقیناً وہ ان میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

مؤمنوں کو غیر مسلم کافر، مشرک، یہودیوں اور عیسائیوں سے صرف دلی دوستی رکھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ان سے اعلان برات کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے : 

لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ..( المجادلة- 22)

(اے پیغمبر)تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں،(انہیں کبھی بھی ان اوصاف سے متصف) نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ(یعنی مؤمن) ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے … 

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ .. (الممتحنة – 4)

یقیناً تمھارے لیے ابراہیم (علیہ السلام)اور ان(ایمان والے) لوگوں میں جو اس کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ تھا، جب انھوں(مؤمنوں) نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم تم سے اور ان تمام چیزوں سے بری ہیں جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمھیں نہیں مانتے اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم اس اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ۔۔۔

 

اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا : 

وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ . (سورة الفرقان 72)

یعنی اور وہ جو جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (جھوٹ میں حاضر نہیں ہوتے) 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، ابوالعالیہ، طاؤس ابن سیرین ضحاک، ربیع ابن انس رحمہم اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد مشرکین کی عیدیں ہیں، یعنی مومنین مشرکین کی عیدوں اور خاص مذہبی عبادات

میں شریک نہیں ہوتے (تفسیر قرطبی و ابن کثیر)

اسلام میں عقیدہ ولاء و البراء کی بہت اہمیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی سب سے زیادہ مضبوط کڑی یہ ہے کہ دشمنی بھی صرف اللہ کے لیے اور دوستی بھی صرف اللہ کے لیے، بغض و عداوت بھی صرف اللہ کے لیے ہو اور دوستی بھی صرف اللہ کے لیے ہو (مسند احمد: 18524، طبرانی۔ مصنف ابن ابی شیبہ: 30420)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے اپنی امت کے متعلق یہ پیشن گوئی فرمائی کہ:

 وہ یہودیوں، عیسائیوں، رومیوں اور مجوسیوں کے طور طریقے اور رسم و رواج کی پیروی کریں گے جیسے ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اور ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، اگر ان میں سے کوئی سانڈھے کے بل میں داخل ہوا ہوگا تو میری امت میں بھی ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جو سانڈھے کے بل میں داخل ہوگا (صحيح بخاری : 3456 ، 7319،  مسلم :2669 ، ترمذی وغيره) اس لیے یہ معاملہ بڑا ہی خطرناک ہے! 

کسی بھی دینی معاملے یا شعار میں کافروں سے مشابہت اختیار کرنا باطل اور غلط ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ . (ابوداؤد: 4031) 

جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں لکھا جائے گا یعنی اس کا حشر نشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔

یہ اس لیے کہ کافروں اور مشرکوں کی عیدوں اور تہواروں میں شرکت کرنے سے ان کی مشابہت، عزت، حوصلہ افزائی اور ان کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے جس کی شریعت میں سخت مذمت کی گئی ہے . 

زعفران سے رنگے (معصفری) کپڑے کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 

 إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا (مسلم: 2077) 

یہ کافروں کے کپڑے (لباس) ہیں تم انہیں ہر گز نہ پہنو .

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو زمانہ جاہلیت میں ان کے لیے خوشی اور عید کے لیے دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیلتے کودتے اور خوشیاں منایا کرتے تھے، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان سے بہتر عید کے دو دن عید الفطر اور عید الاضحی عطا کیے ہیں (ابوداؤد: 1134)

مطلب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاہلیت والے عید کے دن برقرار رکھنا بھی برداشت نہ ہوا تو پھر ایک مسلمان کے لیے عید کرسمس، ہولی، اور ان کے میلوں وغیرہ میں شرکت اور ایسے مواقع پر مٹھائیاں دینا اور لینا اور ان کی مبارکباد دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟؟؟

اور ان تہواروں کا تعلق ان کے جھوٹے شرکیہ، کفریہ اور مذہبی عقائد اور بت پرستی سے ہے!! جس طرح ان کے خیال کے مطابق نعوذ باللہ 25 دسمبر کو کرسمس، خدا کے بیٹے حضرت عیسیٰ مسیح کی پیدائش کا دن ہے، اسی طرح ہندوؤں کی ہولی وغیرہ کی خصوصی تقریبات ان کے بتوں کی طرف منسوب اور مخصوص شرکیہ دن ہیں تو پھر ایک مسلمان کے لیے ان میں شرکت کرنا اور ان کی مبارکباد دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے!!!؟؟؟

  رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ مقام بوانہ پر ایک اونٹ ذبح کرے گا ۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا : بیشک میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا ” کیا وہاں جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی عبادت ہوتی رہی ہو ؟ “ صحابہ نے کہا : نہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا : کیا وہ جگہ ان کی میلہ گاہ تھی ؟ ” صحابہ نے کیا نہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اپنی نذر پوری کر لے ‘ تحقیق ایسی نذر کی کوئی وفا نہیں جس میں اللہ کی نافرمانی ہو ‘ اور نہ اس کی جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو  .(سنن ابوداؤد : 3313)  

اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ جس جگہ شرک ہوتا ہو یا مشرکین کی کوئی عید یا میلہ منایا جاتا ہو تو وہاں اللہ کے نام پر نذر یا صدقہ و خیرات کرنا بھی جائز نہیں۔ تو پھر اس طرح کی عیدوں میں کفار یا مشرکین کے ساتھ شرکت کرنا بالکل بھی جائز نہیں ہوگا . 

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ:

 لا تَعَلَّمُوا رَطانَةَ الأعاجِمِ، ولا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ كَنائِسَهُمْ، فَإنَّ السَّخَطَ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ – وفي رواية عن عمر رضي الله عنه قال :  ‍ﺍ‍ﺟ‍‍ﺘ‍‍ﻨ‍‍ﺒ‍‍ﻮ‍ﺍ‍ ﺃ‍ﻋ‍‍ﺪ‍ﺍﺀ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﻠ‍‍ﻪ‍ ‍ﻓ‍‍ﻲ‍ ‍ﻋ‍‍ﻴ‍‍ﺪ‍ﻫ‍‍ﻢ‍. 
(مصنف عبدالرزاق: 1609. مصنف ابن ابی شيبة : 26281. سنن الڪبرج بيهقی:62 -18861) 

یعنی کفار مشرکین کی زبان اور بولی بغیر کسی ضرورت کے نہ سیکھیں اور نہ ہی عیدوں کے دنوں میں ان کے گرجا گھروں اور عبادت گاہوں میں نہ جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا غضب اور عذاب ان پر نازل ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ کے دشمنوں کی عیدوں میں شریک ہونے سے بچو . 

ایرانی مجوسی کافر بھی دو عیدیں نیروز اور مھرجان کے نام سے منایا کرتے تھے۔ نیروز سال کا پہلا دن تھا جس کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 

ﻣ‍‍ﻦ‍ ‍ﺑ‍‍ﻨ‍‍ﻰ ‍ﺑ‍‍ﺒ‍‍ﻠ‍‍ﺎ‍ﺩ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﺄ‍ﻋ‍‍ﺎ‍ﺟ‍‍ﻢ‍ ‍ﻭ‍ﺻ‍‍ﻨ‍‍ﻊ‍ ‍ﻧ‍‍ﻴ‍‍ﺮ‍ﻭ‍ﺯ‍ﻫ‍‍ﻢ ‍‍ﻭ‍ﻣ‍‍ﻬ‍‍ﺮ‍ﺟ‍‍ﺎ‍ﻧ‍‍ﻬ‍‍ﻢ‍ ‍ﻭ‍ﺗ‍‍ﺸ‍‍ﺒ‍‍ﻪ‍ ‍ﺑ‍‍ﻬ‍‍ﻢ‍ ‍ﺣ‍‍ﺘ‍‍ﻰ ‍ﻳ‍‍ﻤ‍‍ﻮ‍ﺕ‍ ‍ﻭ‍ﻫ‍‍ﻮ ‍ﻛ‍‍ﺬ‍ﻟ‍‍ﻚ‍ ‍ﺣ‍‍ﺸ‍‍ﺮ ‍ﻣ‍‍ﻌ‍‍ﻬ‍‍ﻢ‍ ‍ﻳ‍‍ﻮ‍ﻡ‍ ‍ﺍ‍ﻟ‍‍ﻘ‍‍ﻴ‍‍ﺎ‍ﻣ‍‍ﺔ . 

جس مسلمان نے بھی ان کے ساتھ مل کر یہ دن منائے تو قیامت کے دن اس کا حشر یعنی سلوک ان ہی کے ساتھ ہوگا . (بيهقي : 18863-64) 

نوٹ: یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کے یہ احکام صرف دینی اور مذہبی نشانی اور شعار کے طور پر اختیار کیے جانے والے معاملات کے بارے میں ہیں۔ باقی جائز دنیوی معاملات میں ان کفار کے ساتھ رواداری، بہترین اخلاق اور عدل و انصاف کے ساتھ ان کے حقوق پورے کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب یہ لوگ ذمی بن کر مسلمان ریاستوں اور ملکوں میں رہتے ہوں تو ان کی جان، مال، اہل و عیال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر اور خصوصی طور پر حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، مذہبی رسومات سے ہٹ کر حسن سلوک کرتے ہوئے تحفے دینا اور قبول کرنا جائز ہے بلکہ تالیف قلبی کے طور پر ان پر خرچ کرنا ضروری ہے، جتنا حق ایک مسلمان پڑوسی کا ہے اتنا ہی حق غیر مسلم پڑوسی کا بھی ہے . 

(وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ)

 

✯✯✯✯✯✯✯✯✯✯✯✯
Table of Contents