23. Imam Nasa’i [Sunan][D: 303]
امام النسائی رحمہ اللہ
مؤلف سنن النسائی:
ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمہ اللہ.
* نام ونسب :
ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر بن دینارالنسائی الخراسانی۔
* نسبت نسائی کی وجہ تسمیہ :
نسائی ”نساء“ کی طرف نسبت ہے ۔ اہل عرب بعض اوقات ہمزہ کو واؤ سے بدل کر نسوی بھی پڑھتے ہیں جو کہ قیاس کے مطابق راجح ہے لیکن مشہور نسائی ہی ہے۔ ابن خلکان رحمہ اللہ کے نزدیک ’ن‘ اور ‘سین‘ دونوں پرفتحہ ہے اور ہمزہ مکسور ہے ۔ یہ سرخس کے قریب خراسان کا ایک مشہور شہر ہے جسے فیروز بن یزدگرد نے آباد کیا تھا۔
* ولادت :
آپ 214 یا 215 ہجری میں پیدا ہوۓ ۔امام نسائی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ آپ کا سن ولادت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: [يشبه أن يكون مولدي في سنة ٢١٥هـ] غالبا میری تاریخ پیدائش 215 ہجری ہے۔‘(تهذيب التهذيب:۳۳/۱) آپ کے سن ولادت کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ آپ 225 ہجری میں پیدا ہوۓ ۔(الوافي بالوفيات للصفدي:٢١٢/٢ ) لیکن اس قول کو امام سخاوی نے قطعی طور پر غلط قرار دیا ہے ۔
* رحلت علمی :
امام نسائی رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟ اس کی تفصیل نہیں ملتی ۔ خراسان اور ماوراء النہر کا علاقہ ہمیشہ سے علم وفن اور ارباب کمال کا مرکز رہا ہے ۔ تاریخ اسلام کے سیکڑوں نامور علماء وفضلا اسی خاک سے اٹھے ہیں ۔ امام نسائی رحمہ اللہ بھی اسی زرخیز خاکِ پاک کے مایۂ نازفرزند تھے ۔اندازہ ہے کہ ابتدائی تعلیم آپ نے یہیں سے حاصل کی ہوگی۔
امام نسائی رحمہ اللہ جس دور میں پیدا ہوۓ اس دور میں طلب حدیث اور تحصیل علم کے لیے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرنا مسلمان اہل علم کا ایک شعار بن چکا تھا۔ سیکڑوں’ ہزاروں میل سفر’ پا پیادہ طے کرنا براعظموں اور سمندروں کو پار کرنا’ ان کے ہاں معمولی بات تھی ۔ اسی طرز عمل کو اختیار کرتے ہوۓ آپ بھی بقول علامہ ذہبی رحمہ اللہ سب سے پہلے 230 ہجری میں سماع حدیث کے لیے قتیبہ بن سعید اللہ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اس وقت آپ کی عمر 15 سال تھی ان کے پاس ایک سال دو ماہ قیام رہا۔ پھر آپ نیشا پور تشریف لے گئے ۔ وہاں آپ نے اسحاق بن ابراہیم حنظلی (ابن راہویہ ) ابوالحسن بن منصور محمد بن رافع وغیرہ اور ان کے ہم عصر شیوخ سے استفادہ کیا۔طلب حدیث کے لیے آپ نے بہت سے شہروں کا سفر کیا۔ خراسان عراق حجاز جزیرہ شام ثغور اور مصر وغیرہ بہت سے شہروں کے اکابر شیوخ اوراساتذہ سے استفادہ کیا پھر مستقل طور پر مصر کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور یہیں سکونت اختیار کر لی ۔ پھر بالآ خر ذی قعد 302 ہجری میں مصر سے دمشق آ گئے ۔
* اساتذہ کرام :
امام نسائی رحمہ اللہ کے اساتذہ کا حلقہ بہت وسیع ہے ۔ آپ نے بڑے بڑے اساتذ ہ فن اور اساطین علم سے استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذہ کے بارے میں حافظ ابن حجر اللہ رقمطراز ہیں: (سمع من خلائق لايحصون) آپ نے ان گنت لوگوں سے سماع حدیث کیا ہے ۔ (تهذيب التهذيب:۳۲/۲) چند ایک اساتذہ وشیوخ کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: علی بن حجر ، ہشام بن عمار ، عیسی بن زغبہ ، محمد بن نصر مروزی ، اسحاق بن موسی انصاری ، ابراہیم بن سعد جوہری ، ابراہیم بن یعقوب جوز جانی ، احمد بن بکار ، حسین بن محمد ابن زعفرانی ،عمرو بن زرارہ، ابو یزید جرمی ،یونس بن عبدالاعلی ، محمد بن عبدالاعلی ، حارث بن مسکین ، ہناد بن سری ، محمد بن بشار ،ابوداود بجستانی، یحی بن درست ، نصر بن علی جہضمی ، یعقوب دورقی ، یوسف بن واضح المؤدب ، اور محمد بن شنی نیز حجاز، عراق، شام مصر ثغور خراسان جزیرہ اور دیگر علاقوں کے بے شمار محدثین سے آپ نے استفادہ کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کو بھی آپ کے شیوخ واساتذہ میں شمار کیا ہے۔
* تلامذہ :
آپ کے شاگردوں میں عالم اسلام اور دنیاۓ علم حدیث کے مختلف گوشوں کے لوگ ملتے ہیں ۔ تہذیب الکمال میں علامہ مزی رحمہ اللہ نے ان کے شاگردوں اور تلامذہ کی ایک طویل فہرست دی ہے ۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی چند ایک کے اسمائے گرامی درج کرنے کے بعد فرمایا:(أمم لا يحصون ان سے سماع حدیث کرنےوالے بہت زیادہ لوگ ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا۔‘(تهذيب التهذيب:۳۲/۱) چند تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں: ابو بشر دولابی ، ابو جعفر طحاوی ،ابوعلی نیشاپوری، ابوبکر احمد بن محمد بن اسحاق الد ینوری (ابن السنی ) ابوبکر محمد بن احمد بن الحداد ،عبدالکریم بن ابوعبدالرحمن نسائی، ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی ، ابوجعفر احمد بن محمد بن اسماعیل نحاس نحوی ، حسن بن خضر الاسیولی ، حسن بن رشیق ، ابیض بن محمد بن ابی ﷺ اور محمد بن معاومیہ بن الاحمر الاندلسی و غیرہم رحمہم اللہ.
* سنن نسائی کے راوی :
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بقول آپ سے سنن نسائی روایت کر نے والے بہت زیادہ لوگ ہیں ان میں سے مشہورترین مندرجہ ذیل دس افراد ہیں:
عبدالکریم بن ابوعبدالرحمن نسائی ،ابوبکر احمد بن محمد بن اسحاق (ابن السنی ) ، ابولی حسن بن خضر الاسیولی، حسن بن رشیق عسکری ، ابوالقاسم حمزه بن محمد بن علی الکنانی ، محمد بن عبداللہ بن زکریا بن حیومیہ ،محمد بن معاویہ بن احمر ، محمد بن قاسم الاندلسی ، علی بن ابو جعفر طحاوی ابوبکر احمد بن محمد بن المہندس
* حلیہ مبارک :
اللہ تعالی نے جس طرح امام نسائی رحمہ اللہ کو معنوی اور باطنی محاسن سے حصہ وافر عطا کیا تھا اسی طرح حسن ظاہری کی نعمت بھی بھر پور انداز میں عطا فرمائی تھی ۔ انتہائی وجیہ وشکیل تھے۔ چہرہ بڑا بارعب نہایت پرکشش اور روشن تھا۔ رنگ نہایت سرخ و سفید تھا یہاں تک کہ بڑھاپے کے باوجود بھی حسن وتر و تازگی میں فرق نہیں آیا تھا۔ آپ اس شعر کے مصداق تھے ۔
أنت نجم في رفعة و ضياء
تجتليك العيون شرقا و غربا
* زہد وتقوی :
امام نسائی رحمہ اللہ یکتائے روزگار اور شب زندہ دار تھے ۔ اکثر صوم داودی پرعمل پیرارہے، یعنی ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن ترک کر تے ۔ کثرت سے حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔ حافظ محمد بن مظفر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے مصر میں اپنے مشائخ کو یہ بیان کرتے سنا ہے کہ آپ کے دن کا بہت زیادہ حصہ عبادت میں گزرتا تھا۔
* عام حالات :
امام صاحب رحمہ اللہ سنت رسول کے شیدائی تھے۔ تادم واپسیں آپ نے نبی اکرم ﷺ کی سنتوں کو قائم کیے رکھا۔ بادشاہوں اور فرماں رواؤں کی محافل سے گریز کرتے تھے گویا کہ ان کا یہ طرۂ امتیاز تھا ۔ میں خاک نشیں ہوں میری جاگیر مصلی شاہوں کو سلامی میرے مسلک میں نہیں
حافظ ابن کثیر اللہ فرماتے ہیں کہ عامل بالسنہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ بہت زیادہ خوش خوراک تھے ۔اکثر مرغ تناول فرماتے اور نبیذ (کھجور کا شربت) پیتے تھے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کے گھر چارعورتیں اور دولونڈیاں تھیں لیکن انتہائی عدل وانصاف سے کام لیتے ہوۓ آپ نے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے مابین باری مقرر کر رکھی تھی ۔ چار بیویاں اور لونڈیاں ہونے کے باوجود آپ کی اولاد میں سے صرف صاحبزادہ عبدالکریم کا نام معلوم ہو سکا ہے۔ بہت قوی شجاع، نڈ راور بہادر تھے۔ آپ کی جرات و دلیری پر آپ کی شہادت کا واقعہ بہت واضح ہے ۔
(تہذیب الکمال : 157,156/1)
ائمہ جرح و تعدیل کی نظر میں امام نسائی رحمہ اللہ کا مقام ومرتبہ : امام ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی رحمہ اللہ کا ائمہ فن کی نظر میں بہت بلند مقام ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام نسائی رحمہ اللہ اپنے دور کے تمام محد ثین سے (شیخین کے بعد ) بلند مقام ومرتبہ رکھتے ہیں ۔“
حافظ ابوعلی نیشا پوری کہتے ہیں:
(هو الإمام في الحديث بلا مدافعہ،) بغیر کسی تقابل اور مقابلے کے امام صاحب رحمہ اللہ حدیث میں امام ہونے کا درجہ رکھتے ہیں ۔“
* حافظ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : ” آپ حدیث، علل حدیث اور علم الرجال میں امام مسلم ترمذی اور ابوداود سے زیادہ ماہر ہیں اور ابوزرعہ وامام بخاری رحمہ اللہ کے ہمسر اور برابر ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: تیسری صدی کے اواخر میں امام نسائی رحمہ اللہ سے زیادہ حافظ الحدیث کوئی نہیں تھا ۔
(سیر أعلام النبلاء: ۱۳۳/۱۴)
ابوبکر بن الحداد شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے اپنے اور اللہ تعالی کے مابین امام نسائی رحمہ اللہ کو حجت بنا لیا ہے۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
‘فن رجال میں ماہرین کی ایک جماعت نے آپ کو امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ پر فوقیت دی ہے یہاں تک کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کو امام الائمہ ابوبکر بن خزیمہ صاحب صحیح سےبھی مقدم رکھا ہے۔“
اگر چہ جمہور کے نزدیک یہ قول مرجوع ہے اور قابل التفات نہیں بہر حال اس سے امام نسائی کا مقام ومرتبہ بہت اچھی طرح واضح ہو جا تا ہے ۔
* مسلک امام نسائی اور تشیع کا الزام : دیگر ائمہ حدیث اور محدثین عظام کی طرح امام نسائی رحمہ اللہ بھی خالصتا متبع قرآن وحدیث تھے۔ کسی خاص فقہی مکتب فکر کے حامل نہ تھے اس کے باوجود ان کے فقہی مسلک کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں کہ ائمہ مجتہدین میں سے کس کی طرف ان کا انتساب ہے ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:( او شافعی المذهب بود، چنانچه مناسك او بر آن دلالت می کند) ”آپ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جیسا کہ آپ کے مناسک سے پتہ چلتا ہے ۔“ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ انھیں شوافع میں شمار کرتے ہیں، اسی طرح نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ بھی ۔ فیض الباری میں انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ کچھ لوگوں نے امام نسائی اور ابوداود رحمہ اللہ کو شافعی کہا ہے لیکن حق یہ ہے کہ وہ حنبلی تھے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ للہ نے بھی اس کی تصریح کی ہے جبکہ قرین صواب راجح اور درست بات یہ ہے کہ آپ کا مسلک کتاب وسنت ہی تھا۔ امام موصوف رحمہ اللہ قرآن و حدیث پر کسی کی بات اور ذاتی رائے کوترجیح نہیں دیتے تھے۔ سنن نسائی کے متعدد مقامات پر تراجم الابواب سے اس بات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ہاں واقعاتی صورت میں بر بناۓ دلیل کبھی ان کی موافقت شافعی علیہ الرحمہ سے اور کبھی امام السنہ احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک و مذہب سے ہو جاتی اور یہ بعید نہیں، بہرحال آپ رحمہ اللہ تقلیدی جمود سے یقینا مبرا تھے۔
جہاں تک الزام تشیع کا تعلق ہے تو وہ سراسر بے بنیاد ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ جب آپ ملک شام تشریف لے گئے تو وہاں خارجیت کا زور تھا۔ حضرت علی رضہ کے مخالف بھاری اکثریت میں موجود تھے ۔ آپ نے لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے کتاب خصائص علی تصنیف کی جس کی پاداش میں آپ پر شیعیت کا الزام لگ گیا جو بالکل جھوٹ پر مبنی تھا کیونکہ بعد میں آپ نے فضائل صحابہ پر ایک مستقل کتاب تصنیف فرمائی۔ (تہذیب الکمال 157/1)
* وفات :
جب مصر میں آپ کے علم وادب کا چرچا خوب ہوا تو حاسدین نے حسد کرنا شروع کر دیا۔ آپ وہاں سے فلسطین کے شہر رملہ آگئے ۔ یہاں چونکہ بنوامیہ کی طویل حکومت کے سبب خارجیت اور ناصبیت کا زور تھا لوگ حضرت علی رضہ کے بارے میں بدگمان تھے لہذا آپ مشق تشریف لے گئے منبر پر براجمان ہو کر کتاب خصائص علی کی قراءت شروع کی ابھی تھوڑی سی ہی پڑھی تھی کہ لوگوں نے استفسار کرنا شروع کر دیا کہ امیر معاویہ کے بارے میں بھی کچھ لکھا ہے؟ امام صاحب رحمہ اللہ نے ان کی منشا کے خلاف جواب دیا عوام مشتعل ہوگئے اور آپ کو مارا پیٹا۔ نازک جگہوں پر سخت چوٹیں آئیں بے ہوشی کی حالت میں لوگ اٹھا کر گھر لاۓ ۔ ہوش آنے پر آپ کو محسوس ہوا کہ شاید میں زندہ نہ رہ سکوں تو بطور وصیت آپ نے فرمایا کہ مجھے مکہ معظمہ لے چلو۔ میرا مدفن اور جاۓ وفات وہی ہونا چاہیے ۔ کہا جا تا ہے کہ آپ کی وفات مکہ معظمہ میں ہوئی اور آپ کو صفا ومروہ کےدرمیان دفن کیا گیا ۔
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار
دوسری روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ آپ کو مکہ معظمہ لے جانے کے لیے اٹھایا گیا تو آپ کا انتقال راستے میں فلسطین کے شہر رملہ میں ہو گیا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی نعش مکہ مکرمہ پہنچائی گئی ۔ آپ کی وفات 13 صفر 303 ہجری پیر کے دن ہوئی ۔ اس وقت آپ کی عمر 88 سال تھی ۔ آپ کی وفات کے بارے میں اگرچہ اور بھی اقوال ہیں لیکن امام ذہبی رحمہ اللہ نے 13 صفر 303 ہجری ہی کو صحیح قرار دیا ہے ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
* تصنیفی و تالیفی خدمات :
امام نسائی رحمہ اللہ نے مختلف موضوعات پر مایہ ناز گرانقدر کتب تصنیف فرمائی ہیں.
چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
السنن الكبرى ، خصائص علي ،فضائل الصحابة ، عمل اليوم و الليلة ، كتاب التفسير، الجمعة ، مناسك الحج ، الكنى ، الضعفاء والمتروكون ، التمييز معجم شيوخه ، كتاب الطبقات ، التصنيف في معرفة الإخوة و الأخوات ، مسند مالك بن أنس ، مسند حديث الزهري بعلله ، مسند حديث شعبة بن الحجاج، كتاب الإغراب ، الجرح والتعديل ، فضائل القرآن ، وفاة النبي و إملاآته الحديثية ، اور شيوخ الزهري.
علاوہ ازیں اور بھی بہت سی کتب ہیں جو شیخ کے رسوخ فی العلم، امامت اور جلالت شان پر دلالت کرتی ہیں ۔
حوالہ :
نام كتاب : “سُنَن نِسَائیِ” اردو
ترجمه : ‘فضیلة الشيخ حَافظ محمد امين (حفظه الله تعالى)’
تحقیق وتخریج: ‘حافظ ابوطاہر زبیرعلی زئی (رحمه الله عليه)