Sections
< All Topics
Print

10. MASAIB WO MUSHKILAAT SE NAJAAT KI DUAAIN [Invocation for Anguish]

PARESHAANI KAY WAQT KI DUA:

DUA: 01


Ibn Abbas (رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke:” Muhammed Rasool Allaah(ﷺ) sakhti aur musibat( pareshaani) ke waqt ye dua kartey”:

‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيم

“La ilaha illal-lahu al-‘Azim, al-Halim, La ilaha illal-lahu Rabbu-s-samawati wal-ard wa Rabbu-l-arsh il-azim.”

Meaning:

“Allah kay siwa koi mabood nahi hai, jo bohot azmat wala hai aur burdbar hai, Allah kay siwa koi mabood nahi, jo asmaan aur zameen ka Rab aur badhay bhari arsh ka rab hai.”

[SAHIH AL BUKHARI : 6345]


حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ ‏ “‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ‏”‏‏.


Narrated By Ibn Abbas(رضی اللہ عنہ) : The Prophet used to invoke Allah at the time of distress, saying, “La ilaha illal-lahu al-‘Azim, al-Halim, La ilaha illal-lahu Rabbu-s-samawati wal-ard wa Rabbu-l-arsh il-azim.”


ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیا ن کیا کہا ہم سے ہشام دتوائی نے کہا ہم سے قتادہ نے انہوں نے ابو عالیہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ سختی اور مصیب کے وقت یوں دعا کرتے لا الَہَ اِالَّا اللہُ العظیمُ الحَلیم لا اِلَہَ اِلاَّ اللہُ رَبُّ السَمٰوٰتِ والارضِ رَبُّ العَرشِ العَظیمُ۔


**************************************

DUA: 02

TAKLEEF KAY WAQT KI DUA :


Ibn Abbas(رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke: “Rasool Allaah(ﷺ) sakht takleef ke waqt ye dua padhtey the”:

‏لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏
“La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi Rabbil-‘Arshil-‘Azim, Subhan-Allahi Rabbil-samawatis-sab’i wa Rabbil-‘Arshil-Azim”


MEANING :

Allah Haleem (burdbar) o kareem (karam wale) ke siwa koi mabood bar haq nahi hai, paaki bayan karta hoon, arsh azeem ke Rab Allah ki, paaki bayan karta hoon saaton asmaan aur arsh kareem ke Rab Allah ki.

[SUNAN IBN MAJAH: 3883]

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ:‏‏‏‏  لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ،‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ،‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ،‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ فِيهَا كُلِّهَا

 


It was narrated from Ibn ‘Abbas (r.a) that the Prophet (ﷺ) used to say at times of distress:
“La ilaha illallahul-Halimul-Karim, Subhan-Allahi Rabbil-‘Arshil-‘Azim, Subhan-Allahi Rabbil-samawatis-sab’i wa Rabbil-‘Arshil-Azim (None has the right to be worshipped but Allah, the Forbearing, the Most Generous; glory is to Allah the Lord of the Mighty Throne; glory is to Allah, the Lord of the seven heavens and the Lord of the Magnificent Throne).” Waki’ said with each wording La ilaha illallahu (none has the right to be worshipped but Allah) is to be included.



– نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف کے وقت یہ ( دعا ) پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» اللہ حلیم ( برد بار ) و کریم ( کرم والے ) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار «لا إله إلا الله» ہے۔ ۱؎

**************************************

DUA: 03


TAKLIF O PARESHANI KAY WAQT KI DUA :



Anas bin Malik(
رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke: “Nabi Kareem (ﷺ) ko jab koi kaam sakht takleef o pareshani mein dal deta to, aap (ﷺ) ye dua padhte” :



يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ

“Yā Ḥayyu yā Qayyūm, bi-raḥmatika astaghīth”


Meaning :


“Aey zinda aur hamesha rehne wale! teri rehmat ke waseelay se teri madad chahta hoon”.


[TIRMIDHI : 3524]

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ:‏‏‏‏ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ .


Anas bin Malik(رضی اللہ عنہ) said:

“Whenever a matter would distress him, the Prophet (ﷺ) would say: ‘O Living, O Self-Sustaining Sustainer! In Your Mercy do I seek relief (Yā Ḥayyu yā Qayyūm, bi-raḥmatika astaghīth).’” And with this chain, that he said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Be constant with: “O Possessor of Majesty and Honor !(Yā Dhal-Jalāli wal-Ikrām).’”



– نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ”اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔


**************************************

(6) AZKAAR JO GHUM, PARESHAANI, DUKH, TAKLEEF, BEMARI AUR GUNAAHON KAY KHILAF BEHTREEN AUR KARGAR HATIYAAR HAIN:
01. DUROOD-E-IBRAHIM:

*چھ اذکار جو غم ، پریشانی ، دکھ ، تکلیف ، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں*


شيخ عبدالرحمن بن سعدي رحمه الله تعالى کہتے ہیں :
میں کتاب و سنت کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جن اذکار کے پڑھنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور وصیت کی گئی ہے وہ چھ اذکار ہیں


چھ اذکار جو میں بیان کرنے جارہا ہوں یہ غم ، پریشانی ، دکھ ، تکلیف ، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ایک بہترین اور کارگر ہتھیار ہیں ..!!

1 – پہلا ذکر : ( رسول الله صلى الله عليہ وسلم پر درود بھیجنا )


دن میں اس کا زیادہ اہتمام کرتے رہیں حتٰی کہ دن کے اختتام پر آپ بہت زیادہ دورد پڑھنے والے ہوں


(سنن نسائی: کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل (باب: نبیﷺ پرسلام پڑھنے کی فضیلت)
حکم : حسن


اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏

Allāhumma ṣalli `alā Muḥammadinwa `alā ’āli Muḥammadin, kamā ṣallayta `alā ‘Ibrāhīma wa `alā ’āli ‘Ibrāhīma, ‘innaka ḥamīdum-majīd. Allāhumma bārik `alā Muḥammadin wa `alā ’āli Muḥammadin, kamā bārakta `alā ‘Ibrāhīma wa `alā ‘āli ‘Ibrāhīma, ‘innaka ḥamīdum-majīd.

1284 .سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے جب کہ آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر سرور جھلک رہا تھا۔ ہم نے کہا: ہم آپ ﷺ کے چہرۂ اقدس پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: ’’اے محمد ﷺ! تحقیق آپ کا رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ جو شخص بھی آپ ﷺ پر درود پڑھے گا، میں اس پر دس دفعہ رحمت کروں گا؟ اور جو بھی آپ ﷺ پر سلام کہے گا، میں اس پر دس بار سلام نازل کروں گا۔‘‘)


**************************************************

ASTAGHFAR: 02



2 -دوسرا ذکر : کثرت سے استغفار کرنا


اپنے فارغ اوقات میں اللہ کی توفیق سے (أستغفر الله) کا ورد کرتے رہیں
(سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہم بیٹھے ہوئے تھےآپﷺ نے فرمایا: میں
نے جب بھی صبح کی ، اللہ تعالیٰ سے اس صبح سو مرتبہ بخشش طلب کی۔

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

السلسلۃ الصحیحۃ رقم : 1600المعجم الاوسط للطبرانی رقم :3879



*************************************************

yā dhal-Jalāli wal-‘Ikrām: 03



3 – تیسرا ذکر : يا ذا الجلال والإكرام” پڑھنا

 يا ذا الجَـلالِ وَالإِكْـرام

yā dhal-Jalāli wal-‘Ikrām.

کثرت سے یہ پڑھنا چاہیئے یہ ذکر بولی بسری سنت بنتا جا رہا ہے
حالانکہ آپ ﷺ نے اس کی وصیت اور اس کے متعلق نصیحت فرمائی ہے .

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
” ألظّوا بيا ذا الجلال والإكرام”.
الراوي : أنس من مالك
صححه الالباني من صحيح الترمذي . رقم الحديث : 3525
جامع ترمذی: كتاب: مسنون ادعیہ واذکار کے بیان میں



(باب: قول اے زندہ قائم رکھنے والے…اور لازم پکڑو تم یا ذوالجلال والاکرام کو)

حکم : صحیح

3525 . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ” يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ” کولازم پکڑو
(یعنی :اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہاکرو”۔)
ألظّوا : مطلب ..کثرت سے پڑھو .. اسے لازم پکڑو ..
رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے جو اس ذکر کے پڑھنے کا کہا ہے اس میں ایک عظیم راز پوشیدہ ہے .
ياذا الجلال کے معنی ہیں : بہت زیادہ بڑے جلال، کامل بزرگی والی ہستی .
والإكرام کے معنی ہیں : اور اپنے اولیا کے لیے اکرام وتکریم کی مالک ہستی ..
اور اگر آپ غور و فکر فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ آپ نے اس بلند و برتر ہستی کی تعریف بھی کی ہے اور اس سے مانگ بھی رہے ہیں !!
سوچیئے اگر دن میں آپ یہ سینکڑوں دفعہ پڑھتے ہیں ..
ياذا الجلال .. ضرور اللہ تعالٰی اس سے راضی ہو گا
اور سینکڑوں دفعہ پڑھیں : والإكرام .
وہ آپ کی حاجات جانتا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا !

*چھ اذکار جو غم پریشانی،دکھ،تکلیف،بیماریوں اور گناہوں کے خلاف بہترین ہتھیار ہیں!*


**************************************************

 lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh: 04




4 – چوتھا ذکر : لاحول ولا قوة إلا بالله

 lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh.

اس کلمہ کی نبی کریم ﷺ نے اپنے بہت سے صحابہ کو تاکید فرمائی ہے اور اسے جنت کا خزانہ قرار دیا ہے .
اگر آپ اس ذکر پر مداومت فرمائیں :
” لاحول ولا قوة إلا بالله “
آپ اللہ تعالٰی کا لطف و کرم اور اس کی عنایت و فضل محسوس کریں گے.
(قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کردیا، وہ کہتے ہیں:میں صلاۃ پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا:” کیامیں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتایئے، آپ ﷺ نے فرمایا:” وہ ”لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ”ہے۔

( سنن ترمذی :3581 )

AIK KALMA JO JANNAT KAY KHAZANAY MEIN SE AIK HAI AUR JANNAT KAY DARWAZON MEIN SE AIK DARWAZA BHI: 05


Abu Musa(
رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke’ Muhammed Rasool Allaah(ﷺ) ne farmaya: “Aey logo! apney oopar reham karo, tum kisi behre ghayeb khuda ko nahi pukartey ho, tum to is zaat ko pukarte ho, jo bohot ziyada sunney aur dekhne wala hai,” phir aap (ﷺ) ne farmaya, kaho :


لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

 lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh.


“kyun ke ye jannat ke khaazano mein se aik khaazana hai ya, yeh farmaya main tumhein aisa kalma na batla don jo jannat ke khazanon main aik khazana hai .”

[SAHIH BUKHARI :7: 6384]


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، وَلَكِنْ تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا ‏”‏‏.‏ ثُمَّ أَتَى عَلَىَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏”‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَإِنَّهَا‏.‏ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏”‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏”‏ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ هِيَ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏


Narrated Abu Musa(
رضی اللہ عنہ):

We were in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey, and whenever we ascended a high place, we used to say Takbir (in a loud voice). The Prophet (ﷺ) said, “O people! Be kind to yourselves, for you are not calling upon a deaf or an absent one, but You are calling an All-Hearer, and an All-Seer.” Then he came to me as I was reciting silently, “La haul a wala quwwata illa bil-lah.” He said, “O `Abdullah bin Qais! Say: La haul a walaquwata illa bil-lah, for it is one of the treasures of Paradise.” Or he said, “Shall I tell you a word which is one of the treasures of Paradise? It is: La haul a wala quwwata illa bil-lah.”



ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! اپنے اوپر رحم کرو ، تم کسی بہرے غائب خدا کو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا ، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہا تھا ۔ ” لا حول ولا قوۃ إلا بالله “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبداللہ بن قیس کہو ” لا حول ولا قوۃ إلا بالله “ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ لا حول

ولا قوۃ إلا بالله

**************************************************

Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn : 05


5 – پانچواں ذکر :لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين


(Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn)’

یہ اللہ کے نبی سیدنا يونس عليه السلام کی دعا ہے :
” لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين” .
یہ ذکر غم و فکر کو بھگانے اور خوشیاں اور مسرت سمیٹنے کا سبب ہے .
( سیدناسعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’ ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی : ” لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ” ۱؎ کیوں کہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعاکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔
(سنن ترمذی :3505 )


[Surah Ambiyaa : 21]


﴾ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ ۖ۸۷

(Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn)’


MEANING :


87. “Ya Allah! tere siva koi mabood nahi, Tu paak hai har aib se, beshak mein qusoor waar hoon.”

87. “There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers.”

87. الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا ۔



FAZILAT:

Ibrahim bin Muhammad apney walid se riwayet kartey hain ke, Muhammed (ﷺ) ne farmaya, jo koi Allah se ye dua padh kar apni koi dua mangay ga to Allah Taala uski dua zaroor qubool farmae ga.

[SUNAN TIRMIDHI; 3505]


Ibrahim bin Muhammad bin Sa`d narrated from his father, from Sa`d that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The supplication of Dhun-Nun (Prophet Yunus) when he supplicated, while in the belly of the whale was: ‘There is none worthy of worship except You, Glory to You, Indeed, I have been of the transgressors. (Lā ilāha illā anta subḥānaka innī kuntu minaẓ-ẓālimīn)’ So indeed, no Muslim man supplicates with it for anything, ever, except Allah responds to him.”


( سیدناسعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’ ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی : ” لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ” ۱؎ کیوں کہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعاکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔


*************************************************

‘Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar: 06



6 – چھٹا ذکر : سبحان الله، الحمدلله، لااله الاالله ،الله اكبر

‘Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar


(سنن ابن ماجہ: کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل (باب: اللہ کی تسبیحات پڑھنے کاثواب)
حکم : صحیح
3809 . حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اللہ کی عظمت کا جو ذکر کرتے ہو ، یعنی تسبیح[سُبۡحَانَ اللہِ]تہلیل [َلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ] اور تمہید [اَلۡحَمۡدُ لِلہ]کے الفاظ کہتے ہو ، وہ عرش کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں ۔ ان کی ایسی بھنبھناہٹ ہوتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ۔ وہ اپنے کہنے والے کا (اللہ کے دربار میں)ذکر کرتے ہیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ (اللہ کے دربار میں)تمہارا ذکر ہوتا رہے ۔)
ان اذکار سے سبق ، فائدہ اور ثمرات سمیٹنے کے لیے انہیں تدبر ، تکرار ، کثرت اور عاجزی کے ساتھ پڑھیئے ..
جس قدر اللہ کا ذکر کریں گے اسی حساب سے اللہ تعالٰی کی محبت کا حصول ممکن ہوگا
جس قدر دعا میں عاجزی اور انکساری ہو گی اسی لحاظ سے وہ اللہ تعالٰی کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے گی
اور کثرت سے دعا اور معوذات اور اذکار کا ورد شیاطین کو بھگانے اور جسم سے حسد کے زہر کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے ..
الشيخ عبدالرحمن السعدي رحمه الله تعالى
علم العقائد والتوحيد والأخلاق والأحكام/47

ALLAH TAALA KE PASANDIDA KALME :

Abu Huraira(رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke: Muhammed (ﷺ) ne farmaya, mera ye kehna mujhe in tamaam cheezon se zyada mehboob hai jin par suraj tuloo hota hai;

سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ

‘Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar


[SAHIH MUSLIM : 6512]

It was narrated that Abu Hurairah (r.a) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: Saying ‘Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar (saying ‘Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is most great)’ is dearer to me than everything upon which the sun rises.”‘


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میرا سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ


اکبر کہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔



*************************************************

KHARZ KI ADAIGI KAY LIYE DUAAIN:
QARZ KI ADAEGI KE LIYE : 01


Ali ibn Abi Talib(رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke: Muhammed Rasool Allaah() ne sahaba e karaam(رضی اللہ عنہم) ko ye dua sikhaee aur farmaya ke, agar kisi ke pass pahad ke barabar bhi qarz ho to uski janib se Allah usey ada farma de ga :

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ

Allāhummakfinī biḥalālika `an ḥarāmika, wa aghninī bi faḍlika `amman siwāka.



Meaning:

Aey Allah! Tu humein halal de kar haram se kifayet karde, aur apne fazal (rizq, maal o dolat) se nawaz kar apne siwa kisi aur se mangnay se be niyaz karde.


​[TIRMIDHI : 3563]

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُكَاتَبًا جَاءَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ عَجَزْتُ عَنْ كِتَابَتِي فَأَعِنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيب

Ali [may Allah be pleased with him] narrated:
that a Mukatib came to him and said: “Indeed I am not capable of my Kitabah so aid me.” He said: “Should I not teach you words that the Messenger of Allah (
) taught me? If you had a debt upon you similar to the mountain of Sir, Allah would fulfill it for you. He said: ‘Say: O Allah, suffice me with Your lawful against Your prohibited, and make me independent of all those besides You (Allāhummakfinī biḥalālika `an ḥarāmika, wa aghninī bi faḍlika `amman siwāka).’”

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ

ایک مکاتب غلام نے ۱؎ ان کے پاس آ کر کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا نہیں کر پا رہا ہوں، آپ ہماری کچھ مدد فرما دیجئیے تو انہوں نے کہا: کیا میں تم کو کچھ ایسے کلمے نہ سکھا دوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے تھے؟ اگر تیرے پاس «صیر» پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو تیری جانب سے اللہ اسے ادا فرما دے گا، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اكفني بحلالك عن حرامك وأغنني بفضلك عمن سواك» ”اے اللہ! تو ہمیں حلال دے کر حرام سے کفایت کر دے، اور اپنے فضل ( رزق، مال و دولت ) سے نواز کر اپنے سوا کسی اور سے مانگنے سے بے نیاز کر دے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔

*************************************************

QARZ KI ADAIGI KAY LIYE DUA: 02


Anas bin Malik(رضی اللہ عنہ) se riwayet hai ke: Muhammed Rasool Allaah() Farmatey the :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ،

وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ


Allāhumma innī a`ūdhu bika mina ‘l-ḥammi wa ‘l-ḥazan, wa ‘l-`ajzi wa ‘l-kasal, wa ‘l-bukhli wa ‘l-jubn, wa ḍala`id-dayni wa ghalabatir-rijāl.

[SAHIH BUKHARI: 158]

Meaning:

Aey Allah! beshak mein aapki panah mein ata hoon pareshaani aur ghum se, ajizi aur kaheli se, bukhl aur buzdili se, qarz kay bojh aur logou kay tasalut(ghalbay) se.”

Narrated by Anas bin Malik(رضی اللہ عنہ) : The Prophet () used to say, “O Allah! I seek refuge with You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, from being heavily in debt and from being overpowered by (other) men.”


ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے کہا میں نے انس سے سنا انہوں نے کہا نبیﷺ فرماتے تھے یا اللہ میں رنج اور غم اور عاجزی اور سستی اور نامردی اور بخیلی اور کمر توڑقرض اور دشمنوں کے غلبہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

**************************************

  SEHET O TANDRUSTI AUR RIZQ KI KUSHADGI KAY LIYE TASBEEH:

Ali bin Abi Talib(رضی اللہ عنہ) se marwi hadees hai ke: “Fatima(رضى الله عنها) ne chakki peesnay ki takleef ki wajah se ke, un ke mubarak haath ko sadma pohanchata hai, toh Nabi kareem () ki khidmat mein aik khadim mangnay ke liye haazir huien. Anhazrat () ghar mein mojood nahi they, is liye unhon ny Hazrat Ayesha(رضى الله عنها) se zikar kya.,jab aap () wapis tashreef laaye to ‘Hazrat Ayesha(رضى الله عنها)  ne aap () se is ka zikar kiya. ‘Hazrat Ali(رضی اللہ عنہ) : ne bayan kya ke phir Anhazrat () hamaray yahan tashreef laaye, hum is waqt tak apne bistaron par late chuke they, mein khara honay laga to “Aap  () ne farmaya ke, kya mein tum dono ko woh cheez na bata don”  jo tumahray liye khadim se bhi behtar ho? Jab tum apney bistar par jaaney lago toh, tentees ( 33 ) martaba ‘Allah akbar’ kaho, tentees ( 33 ) martaba ‘subhan Allah’ kaho aur tentees ( 33 ) martaba ‘الحمدللہ‘ kaho, yeh tumahray liye khadim se behtar hai aur “shoba se riwayat hai un se Khalid ne, un se Ibn Sirin ne bayan kya ke’subhan Allah’ chontis martaba kaho .

SubhanAllah 34 martaba.

Al Hamdulillah 33 Martaba.

AllahuAkbar 33 Martaba


[SAHIH BUKHARI : 8:6318]

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ شَكَتْ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ‏.‏ قَالَ فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ ‏”‏ مَكَانَكِ ‏”‏‏.‏ فَجَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ ‏”‏ أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ، إِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا، أَوْ أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَكَبِّرَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَسَبِّحَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ، فَهَذَا خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ‏”‏‏.‏ وَعَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ التَّسْبِيحُ أَرْبَعٌ وَثَلاَثُونَ‏‏

Narrated `Ali(رضی اللہ عنہ):

Fatima complained about the blisters on her hand because of using a mill-stone. She went to ask the Prophet for servant, but she did not find him (at home) and had to inform `Aisha of her need. When he came, `Aisha informed him about it. `Ali added: The Prophet (ﷺ) came to us when we had gone to our beds. When I was going to get up, he said, “Stay in your places,” and sat between us, till I felt the coolness of the feet on my chest. The Prophet (ﷺ) then said, “Shall I not tell you of a thing which is better for you than a servant? When you (both) go to your beds, say ‘Allahu Akbar’ thirty-four times, and ‘Subhan Allah’ thirty-three times, ‘Al hamdu ‘illah’ thirty-three times, for that is better for you than a servant.” Ibn Seereen said, “Subhan Allah’ (is to be said for) thirty-four times.

فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی تکلیف کی وجہ سے کہ ان کے مبارک ہاتھ کو صدمہ پہنچتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم مانگنے کے لئے حاضر ہوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں موجود نہیں تھے ۔ اس لئے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا ۔ جب آپ تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا ذکر کیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہم اس وقت تک اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں کھڑا ہونے لگا تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتادوں جو تمہارے لئے خادم سے بھی بہتر ہو ۔ جب تم اپنے بسترپر جانے لگو تو تینتیس ( 33 ) مرتبہ اللہ اکبر کہو ، تینتیس ( 33 ) مرتبہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس ( 33 ) مرتبہ الحمدللہ کہو ، یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے اور شعبہ سے روایت ہے ان سے خالد نے ، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا کہ سبحان اللہ چونتیس مرتبہ کہو ۔

****************************************

BOHOT HI AZEEM HADEES AUR BOHOT HI AZEEM FAZEELAT:

Ye wo hadees hai jiski chaan been kay baad jab yeh durust nikli to Allama Albani Rahimahullah ne sajdah e shukr adaa kiya.


سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ
اللھُمّ اغْفِرْ لِي
اللھُمّ ارْحَمْنِي
اللھُمّ ارْزُقْنِي


‘Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar’

Allāhumma’ghfir lī, war’ḥamnī, warzuqnī.



 Hadith : Saat (7) azkar jiska jawab Allah subhanahu khud dete hain

Hazrat Anas(رضی اللہ عنہ) se riwayet hai: aik aerabi (bedouin) Rasool Allah () ke paas aaya aur kehne laga: ‘Ya Rasool Allah () mujhe khair (wale kalimat) seekha djiye’,

Rasool-Allah () ne uska haath pakad kar farmaya kaho;

سُبْحَان اﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ


SubhanAllah Walhamdulilah Wa Lailaha illAllahu Wallahu Akbar.
us aerabi ne in kalimat ko apni ungliyon par gina aur sochta hua chala gaya, phir wapas palta to Rasool-Allah (
) muskuraney lage aur us se farmaya;

tum kyu aik na ummeed shakhs ki tarah fikr kar rahe ho, wo aap () ke qareeb aya aur kehne laga Ya RasoolAllah ()!

‘SubhanAllah Walhamdulilah Wa Lailaha illAllahu Wallahu Akbar’ ye to Allah Subhanahu ke liye hain (yani uski tareef ke liye hain) mere liye kya hai? Rasool Allah () ne

farmaya, aey aerabi ;
jab tum SubhanAllah kaho ge to Allah Subhanahu farmaye ga tum ne sach kaha,
jab tum Alhamdulillah kaho ge to Allah Subhanahu farmaye ga tum ne sach kaha,
jab tum La ilaha illAllah kaho ge to Allah Subhanahu farmaye ga tum ne sach kaha,
jab tum Allahu Akbar kaho ge to Allah Subhanahu farmaye ga tum ne sach kaha,
jab tum Allahummagfirli (yani aey Allah mujhe bakhsh de) kahoge to Allah Subhanahu farmaye ga maine ye kar diya (yani tumhe baksh diya )
jab tum Allahummarhamni (yani eh Allah mujh par raham farma) kahoge to Allah Subhanahu farmayega maine ye kar diya (yani tum par raham kar diya)
aur jab tum Allahummarzuqni (yani aey Allah mujhe rizq ata farma) kaho ge to Allah Subhanahu farmaye ga mein ne ye kar diya ( yani tumhein rizq ata kiya).
Earaabi ne apney haath par Saat (7) ki ginti gini, phir wapas palat kar chala gaya.

[Al-Silsila-tus-Sahiha – 2872]

عَنْ أَنسٍ رضی اﷲ عنہ قَالَ: جَاء أَعْرَابِيٌّ۔ إلی النَّبِي ﷺ فَقَال: یَا رَسُولَ اﷲ، عَلَمنِي خَیْرًا فَأَخَذ النَّبِي ﷺ بِیَدہ فَقَال: قُل سُبْحَان اﷲ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ فَعَقَد الْأَعْرَابِيّ عَلَی یدہ۔ وَمَضَی وَتَفَکَّرتُم رَجَع فَتَبَسَّم النَّبِي ﷺ قَالَ: تَفکر الْبَائِس فَجَاء فَقَال: یَا رَسُول اللّٰہ!، سُبْحَان اﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ھٰذَا لِلّٰہِ فَمَا لِي؟ فَقَال لَہ النَّبِي ﷺ: یا أَعْرَابِيّ! إذَا قُلْتَ: سُبْحَانَ اﷲِ قَالَ اﷲُ: صَدقْتَ وَإِذَا قُلْتَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ: وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ: اﷲُ أَکْبَر قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ:: اللھُمّ! اغْفِرْ لِي قَالَ اﷲُ: قَد فَعلتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللھُمّ! ارْحَمْنِي قَالَ اﷲُ: (قد) فَعلتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللھُمّ! ارْزُقْنِي قَالَ اﷲُ: قَد فَعلتُ قَالَ: فَعَقَد الْأَعْرَابِيّ عَلَی سَبع في یَدہ ثُمَّ وَلَّی۔


انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہیں کہ ایک اعرابی رسول الله ﷺ کے پاس آیا او رکہنے لگا: یا رسول الله ﷺ مجھے خیر (والے کلمات) سکھائیے۔رسول الله ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا

کہوسبحان اﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الّا اﷲ، واﷲ اکبر۔ بدو نے اپنے انگلیوں پر گنا، اور سوچتا ہوا چلا گیا۔ پھر واپس پلٹا، تو رسول الله ﷺ نے نے فرمایا: تم کیوں ناامید شخص کی طرح فکر کر رہے ہو ۔ وہ آپﷺ کے قریب آیا اور کہنے لگا: یا رسول الله ﷺ سبحان اﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الا اﷲ، واﷲ اکبر یہ تو اﷲ کے لیے ہیں (یعنی اس کی تعارف کے لئے ہے ) میرے لیے کیا ہے؟

رسول الله ﷺ نے اس سے فرمایا: اے اعرابی ! جب تم سبحان اﷲ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا، جب تم الحمدللّٰہ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا، جب تم لا الہ الا اﷲ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: تم نے سچ کہا، جب تم اﷲ اکبر کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچا کہا، جب تم کہو گے: اللھُمّ اغْفِرْ لِي ( اے اﷲ مجھے بخش دے) تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا میں نے یہ کر دیا (یعنی میں نے بخش دیا) جب تم کہو گے: اللھُمّ ارْحَمْنِي (اے اﷲ مجھ پر رحم فرما) تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے یہ کر دیا (یعنی میں نے رحم کردیا،) اور جب تم کہو گے اے اﷲ مجھے رزق عطا فرما، تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا میں نے یہ کر دیا (یعنی میں نے رزق دے دیا،) اعرابی نے اپنے ہاتھ پر سات کی گنتی گنی پھر واپس پلٹ
گیا۔


السلسلہ صحیحہ ٢٨٧٢

****************************************


Table of Contents